تحریر: جواد پاروی
حوزہ نیوز ایجنسی| عالمی جنگیں روایتی طور پر اہداف کے حصول کی بنیاد پر لڑی جاتی ہیں، جہاں فتح و شکست کا تعین حاصل کردہ مقاصد سے ہوتا ہے۔ تاہم، حالیہ بین الاقوامی تنازعات، بالخصوص ایران پر مسلط کردہ جنگ کے تناظر میں، "فتح" کا قدیم تصور تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ یہ اب محض زمینی تسلط، دشمن کے مکمل خاتمے یا فوری فوجی برتری تک محدود نہیں رہا؛ بلکہ یہ ایک گہرے، کثیر الجہتی اور اسٹریٹیجک بقا کی جنگ کا روپ دھار چکا ہے۔
ایران، جو طویل عرصے سے عالمی طاقتوں، بالخصوص امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ غیر متوازن تناؤ کا شکار تھا، نے اس بدلتے تصور کو بخوبی سمجھا اور اسے اپنی قومی سلامتی کا محور بنایا۔ ایران کی یہ حکمت عملی، جسے "فتح از طریق عدم شکست" سے تعبیر کیا جا سکتا ہے، دراصل فتح کے اس نئے معیاری تصور کا عملی مظہر ہے۔ یعنی "نہ ہارنا" بھی خود ایک فتح ہے۔
ایران کی علاقائی، نظریاتی اور اقتصادی صورتحال اسے روایتی جنگ میں براہِ راست تصادم سے باز رکھتی ہے۔ اس تناظر میں، ایران نے اپنے اس نقطہ ضعف کو ایک منفرد قوت میں تبدیل کیا اور جنگِ فرسائشی کا راستہ اختیار کیا۔ اس حکمت عملی کا بنیادی مقصد فوری فوجی فتح کی بجائے دشمن کی قوت، حوصلے اور وسائل کو بتدریج ختم کرنا ہے۔ اس طرزِ عمل کے کئی اہم پہلو ہیں مثلا جارح ملکوں کو اقتصادی دباؤ اور آبنائے ہرمز جیسے عالمی تجارت کے اہم آبی راستوں پر اثر انداز ہو کر گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا۔ یہ حکمت عملی عالمی رائے عامہ کو ہموار کرنے کے ساتھ ساتھ دشمن کو اقتصادی و مالی دباؤ کے ذریعے مزید تنازع سے باز رکھنے کا ایک اہم حربہ ہے۔ اسی طرح علاقائی اتحادی جماعتوں کا نیٹ ورک بھی فرسائشی جنگ کا ایک اہم عنصر ہے۔ ایران نے اپنے علاقائی اتحادیوں، جیسے حزب اللہ، حشدالشعبی اور انصار اللہ کے ذریعے ایک مؤثر اتحادی نیٹ ورک قائم کر رکھا ہے۔ یہ گروہ، دشمن کے مفادات پر حملے کر کے، ایران کو براہِ راست جنگ میں الجھے بغیر دباؤ برقرار رکھنے کی صلاحیت فراہم کرتے ہیں۔ اس سے دشمن کی توجہ اور وسائل تقسیم ہو جاتے ہیں، اور ایران کو اپنے اہداف کے حصول میں ایک لاجسٹک سپورٹ میسر آتا ہے۔ یمن میں حوثیوں کے بحیرہ احمر میں تجارتی بحری جہازوں پر حملے اور امریکی جارحیت کے فوراً بعد حزب اللہ کا اسرائیلی جارحیت کے خلاف ردِعمل، اسی حکمت عملی کا قابلِ ذکر مظہر ہے۔
عالمی طاقتوں کے مقابلے میں فوجی طاقت کے عدم توازن کو درک کرتے ہوئے ایران کی حکمت عملی فرسائشی جنگ کی تھی۔ ایک ایسی جنگ جس کا مقصد مخالف فریق کے لیے اخراجات میں اضافہ کرنا اور تنازع جاری رکھنے کے محرکات کو کم کرنا تھا۔ یعنی توانائی کے راستوں پر دباؤ ڈالنا، علاقائی سلامتی کو خطرے میں ڈالنا، اور علاقائی اتحادیوں کا استعمال کر کے درحقیقت، تہران میدانِ جنگ کو ایک کلاسیکی جنگ سے کثیرالجہتی تصادم میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا تھا، جہاں معیشت، سیاست اور میڈیا کی اہمیت روایتی ہتھیاروں سے کہیں زیادہ ہے۔ ایران اپنی اس کوشش میں کامیاب رہا اور یوں امریکہ مجبور ہو کر دوبارہ ایران کی شرائط پر مذاکرات کے میز پر واپس آیا۔
اس کے برعکس، امریکہ اور اسرائیل، اپنی بظاہر برتر عسکری طاقت کے باوجود، ایران کی اس کثیر الجہتی حکمت عملی کے خلاف فیصلہ کن فتح حاصل کرنے میں مسلسل ناکام رہے ہیں۔ وہ ایران کو مادی نقصان پہنچانے میں تو کامیاب ہوئے، لیکن اس کے مضبوط نظام، اس کی مزاحمتی صلاحیتوں اور اس کے بنیادی ڈھانچے کو مکمل طور پر ختم کرنے میں ناکام رہے۔ یوں، طویل، مہنگی اور بالآخر بے نتیجہ جنگ کے عالمی، سیاسی اور اقتصادی مضمرات امریکہ کے لیے زیادہ سنگین ثابت ہو گئے۔
یہی وجہ ہے کہ ایران کی "نہ ہارنے" پر مبنی حکمت عملی، دراصل وسائل کے عدم توازن کا مقابلہ کرنے کا ایک انتہائی حکیمانہ، دانشمندانہ اور مؤثر طریقہ ہے۔ جب کوئی ملک تسلط اور بالادستی کا خواب نہ رکھتا ہو، تو اس کے لیے دشمن کے خلاف سب سے بڑی کامیابی اپنی خودمختاری، اپنی شناخت اور اپنے سیاسی نظام کو برقرار رکھنا ہے۔ اس تناظر میں، عالمی دباؤ، اقتصادی پابندیوں اور عسکری دھمکیوں کے باوجود اپنی مزاحمت کو طول دے کر ایران کا امریکہ کو مذاکرات تک دوبارہ واپس لانا، درحقیقت ایران کی "فتح" کا پرچم بلند کر رہا ہے۔
روایت گری اور بیانیے کی جنگ میں فتح محض ایک عینی حقیقت نہیں رہتی، بلکہ یہ سیاسی اور میڈیا کے تاثرات اور مختلف فکری تفاسیر پر بھی منحصر ہو جاتی ہے ایران کی فتح کی یہ نئی حکمت عملی اور اسٹریٹیجی یہ سکھاتی ہے کہ بڑی طاقتوں کے سامنے، فتح ہمیشہ ظاہری تسلط کا نام نہیں؛ بلکہ بعض اوقات، اپنی بقا اور خودمختاری کو یقینی بنانا، یعنی "نہ ہارنا"، بھی خود سب سے بڑی فتح کا حامل ہوتا ہے۔ فتح کا یہ معیار، طوقِ غلامی پہنے خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی ایک نمونہ اور قابلِ عمل راستہ بن سکتا ہے۔









آپ کا تبصرہ